دیا[2]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - دنیا کا ماضی، تراکیب میں مستعمل۔ "انہیں کھانے کی چنداں ضرورت نہ تھی کسی نے دیا تو کھا لیا نہ دیا تو نہیں کھایا۔"      ( ١٩٨٦ء، اوکھے لوگ، ١٦٤ ) ٢ - بخشش، عطیہ، بخشی ہوئی شے، نذر، تحفہ۔  کیا دیا تھا کبھی ایسا کہ جو پائے یہ دن آپ کو عذر جفا کحے لیے لائے یہ دن      ( ١٨٦٨ء، شعلۂ جوالہ، ٨٤٣:٢ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ فعل متعدی 'دینا' سے مشتق صیغہ ماضی مطلق 'دیا' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٦٦٥ء سے "علی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دنیا کا ماضی، تراکیب میں مستعمل۔ "انہیں کھانے کی چنداں ضرورت نہ تھی کسی نے دیا تو کھا لیا نہ دیا تو نہیں کھایا۔"      ( ١٩٨٦ء، اوکھے لوگ، ١٦٤ )

اصل لفظ: دینا
جنس: مذکر